24  فروری‬‮  2018
تازہ ترین

برہانی وان اور خالد وانی کے مسلح جدو جہد آزادی کشمیر میں انجام دیے گئے کارناموں اور شہادت کا ایسا تذکرہ جو آپ کا لہو گرما دے گا

برہانی وان اور خالد وانی کے مسلح جدو جہد آزادی کشمیر میں انجام دیے گئے کارناموں اور شہادت کا ایسا تذکرہ جو آپ کا لہو گرما دے گا
برہانی وان اور خالد وانی کے مسلح جدو جہد آزادی کشمیر میں انجام دیے گئے کارناموں اور شہادت کا ایسا تذکرہ جو آپ کا لہو گرما دے گا
لاہور (انتخاب : شیر سلطان ملک ) کشمیر کے حوالے سے بھارتی حکومت اس وقت شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور اس نے ایسے ایسے شرمناک قانون وضع کر رکھے ہیں جن کی دنیا کے کسی قانون میں کوئی گنجائش نہیں اور یہ قوانین باقاعدہ دہشت گردی کے زمرے میں آتے ہیں مگر
نامور کالم نگار فاروق حارث العباسی اپنے ایک خصوصی مضمون میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ بھارتی حکمرانوں نے مجاہدین کو کچلنے کے لئے ہر طرح کی شرم‘ حیا اتار کر پھینک دی ہے۔ پروفیسر افضل گورو کا مقدمہ اس شرمناک قانون کی ایک زندہ مثال ہے۔ پروفیسر افضل گورو نوجوانی ہی میں اس پیشے سے منسلک تھے اور پروفیسر کے اعلیٰ عہدے پہنچے۔ جب پارلیمنٹ پر حملہ ہوا تو اس وقت پروفیسر صاحب کالج میں پڑھا رہے تھے۔ بھارتی حکومت نے ان پر الزام عائد کیا کہ اس حملے کے ماسٹر مائنڈ افضل گورو ہیں اور ان کی سربراہی میں پاکستانی مجاہدین نے پارلیمنٹ پر حملہ کیا ہے اور وہ پاکستانی جنہوں نے پارلیمنٹ پر حملہ

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

کیا تھا۔ پروفیسر افضل گورو نے انہیں اپنے گھر میں پناہ دی تھی۔ یہ ایک نہایت بے ہودہ اور من گھڑت قصہ تھا۔ جب افضل گورو کو گرفتار کیا گیا تو ان کے پاس سے صرف ایک لیپ ٹاپ برآمدہوا اور ہر چیز چیک کرنے کے باوجود اس لیپ ٹاپ میں کسی قسم کی کوئی ایسی ای میل بھی نہ ملی جس سے ثابت ہو کہ انہوں نے کوئی ایسا غلط میسج کسی کو بھیجا ہو سوائے تین ناموں کے جو ان کے اپنے ہی دوستوں کے تھے لیکن ان تین ناموں کو بنیاد بنا کر کہ یہ نام ان دہشت گردوں کے ناموں سے ملتے جلتے ہیں

جو حملے کے دوران مارے گئے۔ اس سلسلے میں جب وزیر خارجہ ایل کے ایڈوانی سے سوال کیا گیا کہ آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ جنہوں نے پارلیمنٹ پر حملہ کیا وہ پاکستانی تھے؟ تو انہوں نے نہایت بھونڈا اور مضحکہ خیز جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’’ان کی شکلیں پاکستانیوں سے ملتی ہیں۔ نوجوان کشمیری مجاہدین میں برہان مظفر وانی کے جہاد اور اس کی شہادت کو برسوں یاد رکھا جائے جس نے تاریخ کے اوراق پر اپنے انمٹ نقوش چھوڑے۔برہان وانی کی مجاہدین میں شمولیت کی وجہ اس کا بڑا بھائی خالد مظفر وانی تھا جو بھارتی درندوں کے ہاتھوں شہید ہوا چلتے شہید کر دیا گیا تھا۔ 8 جولائی 2016ء کو برہان وانی اپنے دو ساتھیوں سرتاج احمد شیخ پرویز احمد لشکری سمیت جام شہادت نوش کر گیا۔ بھارتی حکومت نے برہان وانی کے سر کی قیمت ایک لاکھ مقرر کر رکھی تھی۔ وانی کی شہادت کے بعدسبز ار بھٹ نے قیادت سنبھالی اور بھارتی فوجیوں پر قہر بن کر ٹوٹ پڑا اور جلد ہی کشمیری نوجوان مجاہدین کی آنکھوں کا تارا بن گیا۔ بھارتی فوج جب اسے گرفتار یا شہید کرنے میں ناکام رہی تو بھارتی حکومت نے اس کے سر کی قیمت دس لاکھ مقرر کر دی۔

اے پلس رینک حاصل کرنے والا سبزار بھٹ بھارتی حکومت کی کتاب میں موسٹ وانٹڈ کے طور پر لکھا جا چکا تھا۔ بھارتی فوجی شکاری کتوں کی طرح اس کی تلاش میں تھے مگر وہ تھا کہ ہر مقام پر بھارتیوں کو چکما دے کر نکل جاتا مگر پھر حسب روایت بھارتی کتوں کو مخبری ہوئی کہ سبزار بھٹ ترال کے گاؤں سوئموہ میں چھپا بیٹھا ہے جو سری نگر سے 36 میل کے فاصلے پر تھا لہٰذا جمعہ کی شب بھارتی فوجی بھاری تعداد میں وہاں پہنچ گئے اور گاؤں کو گھیرے میں لے لیا۔ جمعہ کی رات سے اگلے دن یعنی ہفتے کی صبح تک یہ مقابلہ جاری رہا بالآخر صبح سوا آٹھ بجے یہ 27 سالہ عظیم مجاہد سبزار بھٹ اپنے اہم ترین کمانڈر فیضان مظفر بھٹ سمیت رتبۂ شہادت پر فائز ہو گیا۔ سبزار احمد بھٹ مسلسل بارہ سال تک میدان جہاد میں رہا اور بھارتیوں کا جہنم واصل کرتا رہا۔ یہ وہ عظیم شہادتیں ہیں جن کا کوئی نعم البدل نہیں لہٰذا جہاد کا یہ سلسلہ کسی بھی حال میں رک نہیں سکتا۔ جس قوم کے نوجوان بیدار ہو جائیں اس قوم کو دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔ بھارتی حکومت اور بھارتی فوجی درندوں کو ہزاروں نہیں لاکھوں کشمیری مجاہدین کا سامنا ہے جو بھارتی فوجیوں کے لئے عذاب الٰہی بن کر ٹوٹ پڑے ہیں اور وہ دن اب زیادہ دور نہیں جب ان کشمیریوں کی لٹی پٹی عصمتیں اور بہایا گیا خون اپنا رنگ لائے گا۔ وادیٔ کشمیر آزادی کے سریلے نغموں سے گونجے گی اور کشمیر کی بلند و بالا برف پوش چوٹیاں ان مجاہدوں کی جرأت و جوانمردی اور ان کی عظیم جدوجہد کو سلام پیش کرتے ہوئے ان کے سامنے جھکی کھڑی ہوں گی۔

انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مین
loading...