24  فروری‬‮  2018
تازہ ترین

1981ء میں گلگت میں آنے والا خوفناک طوفان اور سابق پاکستانی آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف ۔۔۔۔ ہمت حوصلے اور بہادری کی ایسی داستان جو آپ کا لہو گرما دے گی

1981ء میں گلگت میں آنے والا خوفناک طوفان اور سابق پاکستانی آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف ۔۔۔۔ ہمت حوصلے اور بہادری کی ایسی داستان جو آپ کا لہو گرما دے گی
اسلام آباد (ویب ڈیسک) سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کا خاندان اپنے ملک کےلئے بہادری اور شجاعت کی ان گنت داستانیں رقم کر چکا ہے۔ میجر عزیز بھٹی شہید کے 1965کی جنگ میں کارناموں کا اعتراف خود دشمن نے کیا ۔جبکہ میجر شبیر شریف شہید بھی دلیر ی اور جرات مندی میں اپنی مثال آپ تھے۔

اپنی سروس کے دوران جنرل راحیل شریف نے بھی اپنے ملک کا پہرہ ایک عقاب کی طرح دھرتی کے کونے کونے میں عقاب کی طرح پرواز کرتے ہوئے دیا۔

 

 

 

 

ان کی جرات کا ایک ایسا واقعہ یہاں بیان کیا جا رہاہے جو اپنے آپ میں دوسروں کےلئے سرفروشی کی اپنی مثال آپ ہے۔ 1981میں جنرال راحیل گلگت میں بریگیڈ ہیڈ کوارٹر میں تعینات تھے۔ خراب موسم کے باعث فوکر طیاروں کی آمد و رفت میں تعطل آجاتا تھا۔ ایسے میں گلگت سے راولپنڈی اور دوسرے علاقوں میں جانے کےلئے فوجی افسران کو ہیلی کاپٹروں کا انتظار کرنا پڑتا ۔ راولپنڈی کا گلگت تک بس کا سفر 24گھنٹوں کا تھا۔ ایک ایسے ہی خراب موسم میں ایک جنرل کو لے کر ایک ہیلی کاپٹر راولپنڈی سے گلگت پہنچا ۔ واپسی پر کچھ افسران اور مسافروں کےلئے جگہ بن گئی۔ جیسے ہی ہیلی کاپٹر نے گلگت سے اڑان بھری تو ایک خطرناک فنی خرابی کے باعث ہیلی کاپٹر کو شاہراہ قرارم پر ہنگامی طور پر اتارنا پڑ گیا۔ہیلی کاپٹر کےلینڈ کاپٹر لرتے ہی مسافروں نے چھلانگیں لگا کر بھاگنے والی کی۔ پچھلی سیٹوں پر بیٹھے دو افسران میں سے ایک جلتی سے اٹھا اور باہر جانے لگا ۔لیکن ابھی عملہ جہاز میں ہی تھا۔ ہیلی کاپٹر کے وائر لیس سسٹم کے انٹینا سے شعلہ نکلنے کے

ایک خطرناک فنی خرابی کے باعث ہیلی کاپٹر کو شاہراہ قرارم پر ہنگامی طور پر اتارنا پڑ گیا۔ہیلی کاپٹر کےلینڈ کاپٹر لرتے ہی مسافروں نے چھلانگیں لگا کر بھاگنے والی کی۔ پچھلی سیٹوں پر بیٹھے دو افسران میں سے ایک جلتی سے اٹھا اور باہر جانے لگا ۔لیکن ابھی عملہ جہاز میں ہی تھا۔ ہیلی کاپٹر کے وائر لیس سسٹم کے انٹینا سے شعلہ نکلنے کےباعث قریب تھا کہ جہاز آگ کی لپیٹ میںآ جاتا ۔جہاز میں بیٹھے دوسرے افسر نے باہر نکلتے افسر کا ہاتھ پکڑ لیا۔ اور کہا لالے ۔۔کتھے ؟؟؟ کتھے جا ریا ایں (بھائی جان کدھر جا رہے ہو؟) دوسرے جونیئر افسر نے جواب دیا ۔ جہاز میں دھوں بھر رہا ہے جو آتشزدگی کا باعث بن سکتا ہے۔ اس پر سینئر افسر نے کہا عملے نوں چھڈ کے کتھے جاواں گے۔ (عملے کو چھوڑ کر کیسے جا سکتے ہیں) جس پر جونیئر افسر بھی شرمندہ ہو کر بیٹھ گیا۔ متبادل نظام فعال ہوتے ہی شعلہ بجھ گیا اور دھواں ختم ہوا۔اور ہیلی کاپٹر دوبارہ منزل کی جانب روانہ ہو گیا۔ اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر عملے سے انخلا تک جہاز سے باہر نہ نکلنے والا سینئر افسر کوئی اور نہیں بلکہ جنرل راحیل شریف تھے۔

انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مین
loading...