24  فروری‬‮  2018
تازہ ترین

مسرت نذیر، انہیں پہلا معاوضہ صرف 1300روپے ملا تھا

مسرت نذیر، انہیں پہلا معاوضہ صرف 1300روپے ملا تھا سن 1953ء میں ریڈیو پاکستان، لاہور سے ایک پنجابی گیت سے ایک نئی آواز متعارف ہوئی ۔یہ آواز دیکھتے ہی دیکھتے ایسی پاپولر ہوئی کہ سننے والوںکولمحوں میں اپنا دیوانہ بناگئی۔یہ اس وقت کی معروف اداکارہ اور گلوکارہ مسرت

 

 

 

 

 

 

 

 

نذیر کا پہلا تعارف تھا۔ اس وقت کسے معلوم تھا کہ یہ نئی گلوکارہ دو سال بعد جب انور کمال پاشا کی آل ٹائم کلاسیکل فلم ’’قاتل‘‘ میں اداکاری کے جوہر دکھا کر شہرت کی بلندیوں پر پہنچیں گی تو صف اول کی اداکارہ بن جائیںگی۔خود مسرت نذیر بھی اس بات سے لاعلم تھیں،انہیں کیا معلوم تھا کہ قسمت کی دیوی ان پر اتنی جلد مہربان ہوجائے گی۔16؍جون 1936ء گڑھی شاہو لاہور میں پیدا ہونے والی اس مایہ ناز اداکارہ اور گلوکارہ کو ہدایت کار انور کمال پاشا نے اپنی فلم ’’قاتل‘‘ میں ثمینہ کے نام سے کاسٹ کیا۔اسی سال ہدایت کار لقمان کی پنجابی فلم ’’پتن‘‘ میں وہ سنتوش کمار کے مقابل ہیروئن کاسٹ ہوئیں۔ اس فلم میں پہلے صبیحہ خانم کو ہیروئن لیا گیا تھا لیکن انہوں نے اس وقت اس فلم میں کام کرنے کا معاوضہ 15ہزار طلب کیا تو لقمان نے مسرت نذیر کو اس فلم میں بطور ہیروئن صرف 13سو روپے میں کاسٹ کرلیا۔فلم ’پتن‘ اپنے دور کی ایک کامیاب سپرہٹ فلم ثابت ہوئی۔ ا س فلم کی کامیابی کے بعد مسرت نذیر نے مڑ کر نہیں دیکھا۔ایک کے بعد ایک کامیاب فلمیں اور ایک کے بعد ایک ہٹ کردار ان کے منتظر رہنے لگے۔ انہیں کامیاب کرداروں کی ادائیگی کے سبب انہیں ’عوامی ادکارہ‘ کا خطاب دیا جانے لگاعوام کی جانب سے سب سے زیادہ جس کردار کو پذیرائی ملی وہ تھا ایک یکہ والی کا کردار جس کی وجہ سے لاہور کےسینکڑوں تانگے والوں کا روزگار یکدم بڑھ گیا ۔اتنا ہی نہیں بلکہ آج بھی تانگوں کی جگہ چنگی رکشہ والے اسٹیشن سے بھاٹی اور لوہاری جاتے ہوئے اسی گانے کی تانیں لگاتےدکھائی دیتے ہیں۔مسرت نذیرنے سبطین فضلی کی ڈائریکشن میں بننے والی ایک معاشرتی فلم ’آنکھ کا نشہ‘ میں پہلی بار انہوں نے ینگ ٹو اولڈ کردار کرکے ہر خاص و عام کو حیران کردیا۔فلم ’زہر عشق‘ آئی تو اس میں مسرت نذیر نے ’سانولی‘ لڑکی کا کردار کرکے جو داد سمیٹی وہ شاید کسی اور کے حصے میں آج تک نہیں آئی۔ اعلیٰ کردار نگاری کے اعتراف میں انہیں ’نگارایوارڈ‘ دیا گیا۔اسی سال نمائش ہونے والی ہدایت کار ایم جے رانا کی پنجابی فلم ’’جٹی‘‘ میں انہوں نے حقیقت کا ایسا رنگ بھرا کہ آج تک جٹی کا تصورکریں تو مسرت نذیر کا سراپانظروں کے سامنے آجاتا ہے ۔مسرت اداکارہ اور گلوکارہ ہونے کے ساتھ ساتھ وہ سماجی سرگرمیوں میں پیش پیش رہیں۔ انہوں نے خواتین کی ایک انجمن کی بنیاد بھی رکھی۔ اس انجمن کے تحت وہ خواتین کے حقوق اور تحفظ کے لیے سرگرم رہیں۔ایک موقع پر انہوں نے اس وقت کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ عورتوں کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں مردوں کے برابر نمائندگی دی جائے۔ فلم ’’شہید‘‘میں عمدہ اور اعلیٰ اداکاری پر انہیں سال کی بہترین اداکارہ کا نگار ایوارڈ دیا گیا۔پنجاب کی لوک شاعری میں عورت کی کردار نگاری کو مسرت نذیر نے اپنی گائیکی سے دوبارہ زندہ کیا۔ ان کے گائے ہوئے گیتوں نے پنجاب کی عورت کو وہ خلوص اور محویت لوٹائی جو پاپ موسیقی نے اس سے چھین لی تھی۔ان کے گائے ہوئے مشہور گیت ’ میرا لونگ گواچا ‘کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اس گیت میں ،میں نے پنجاب کی عورت کی معصومیت، سادگی ، اور شرافت کی صحیح عکاسی کی ہے۔ اس میں کوئی اعلیٰ پائے کی شاعری نہیں بلکہ بڑی سادگی سے پنجاب کی عورت کے جذبات واحساسات کی عکاسی کی گئی ہے

انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مین
loading...