24  فروری‬‮  2018
تازہ ترین

حج وعمرہ ٹور آپریٹرز کی جانب سے وفاقی وزیر مذہبی امور کو رشوت، اصل کہانی کیا ہے؟ جانیے

حج وعمرہ ٹور آپریٹرز کی جانب سے وفاقی وزیر مذہبی امور کو رشوت، اصل کہانی کیا ہے؟ جانیے وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف نے کہا ہے کہ مجھے رشوت دینے کی کسی کو ہمت نہیں ہوگی ۔اپوزیشن لیڈر خورشید کی طرف سے حج و عمرہ ٹورآپریٹرز کی طرف سے رشوت دینے کی پیشکش کے انکشاف پر سردار یوسف نے کہا کہ خورشید شاہ نے اس وقت کی بات کی ہوگی جب ان کی حکومت تھی ۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

انہوں نے مزید کہا کہ کوشش کر رہے ہیں کہ عازمینِ حج کو بھرپور سہولتیں فراہم کریں،اگر کسی کو شکایت ہے تو وہ وزارت سے رابطہ کرے۔سردار یوسف نے یہ بھی کہا کہ عازمین حج کی قرعہ اندازی کا عمل نہیں ہوگا پیسہ وزارت کے پاس نہیں آئے گا بلکہ بینکوں کے پاس پڑا رہیےگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پچھلے دور حکومت میں تقریباً2800 نئی کمپنیوں کو بطور حج ٹور آپریٹر رجسٹرڈ کیا گیا،سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایک ٹور آپریٹر حج کوٹے کے لئے 1کروڑ روپے کی رشوت پیش کررہا ہے تو وہ اپنا یہ نقصان کیسے پورا کرے گا، یقینی بات ہے کہ یہ اخراجات عازمین حج کے پلے ہی پڑنے ہیں۔ارکان پارلیمنٹ نے خورشید شاہ کے الزامات پر تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ انہوں نے اپنے دور حکومت میں اس کی نشان دہی کیوں نہیں ؟ارکان پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ موجودہ دور حکومت میں زائرین بہترین انتظامات کی وجہ سے سرکاری حج اسکیم کو ترجیح دیتے ہیں۔ذرائع کے مطابق رواں سال سرکاری حج اسکیم کے تحت تقریبا ًپونے4 لاکھ عازمین کی درخواستیں وصول ہوئی ہیںاور ان عازمین کے 106 ارب روپے مختلف بینکوں میں پڑے ہیں۔ایک سوال یہ بھی اٹھایا گیا ہے کہ 8 ماہ پہلے 106 ارب روپےبینکوں میں رکھ کر ان پر منافع کون اٹھا رہا ہے؟

انہوں نے مزید کہا کہ کوشش کر رہے ہیں کہ عازمینِ حج کو بھرپور سہولتیں فراہم کریں،اگر کسی کو شکایت ہے تو وہ وزارت سے رابطہ کرے۔سردار یوسف نے یہ بھی کہا کہ عازمین حج کی قرعہ اندازی کا عمل نہیں ہوگا پیسہ وزارت کے پاس نہیں آئے گا بلکہ بینکوں کے پاس پڑا رہیےگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پچھلے دور حکومت میں تقریباً2800 نئی کمپنیوں کو بطور حج ٹور آپریٹر رجسٹرڈ کیا گیا،سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایک ٹور آپریٹر حج کوٹے کے لئے 1کروڑ روپے کی رشوت پیش کررہا ہے تو وہ اپنا یہ نقصان کیسے پورا کرے گا، یقینی بات ہے کہ یہ اخراجات عازمین حج کے پلے ہی پڑنے ہیں۔ارکان پارلیمنٹ نے خورشید شاہ کے الزامات پر تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ انہوں نے اپنے دور حکومت میں اس کی نشان دہی کیوں نہیں ؟ارکان پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ موجودہ دور حکومت میں زائرین بہترین انتظامات کی وجہ سے سرکاری حج اسکیم کو ترجیح دیتے ہیں۔ذرائع کے مطابق رواں سال سرکاری حج اسکیم کے تحت تقریبا ًپونے4 لاکھ عازمین کی درخواستیں وصول ہوئی ہیںاور ان عازمین کے 106 ارب روپے مختلف بینکوں میں پڑے ہیں۔ایک سوال یہ بھی اٹھایا گیا ہے کہ 8 ماہ پہلے 106 ارب روپےبینکوں میں رکھ کر ان پر منافع کون اٹھا رہا ہے؟

انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مین
loading...