24  فروری‬‮  2018
تازہ ترین

عجب کرپشن کی غضب کہانی: ایم کیو ایم کن فلاحی اداروں کے نام پر بیرون ملک پیسہ منتقل کر رہی ہے؟ ایف آئی اے کی تازہ ترین رپورٹ نے نیا تنازعہ کھڑا کر دیا

عجب کرپشن کی غضب کہانی: ایم کیو ایم کن فلاحی اداروں کے نام پر بیرون ملک پیسہ منتقل کر رہی ہے؟ ایف آئی اے کی تازہ ترین رپورٹ نے نیا تنازعہ کھڑا کر دیا متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے فلاحی ادارے خدمت خلق فاؤنڈیشن (کے کے ایف) کے ذریعے رقوم برطانیہ بھیجنے کا انکشاف ہوا ہے۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) ذرائع کے مطابق پوچھ گچھ کے دوران ایم کیو ایم رہنما کیف الورٰی نے رقوم برطانیہ بھیجنے کا اعتراف بھی کرلیا ہے۔

 

 

 

 

 

 

ایف آئی اے 2014-15 میں ایک ارب روپے سے زائد کی منی لانڈرنگ کی تحقیقات کر رہا ہے ۔ایف آئی اے نے متحدہ کے 10 رہنماؤں بشمول احمد شاہد، محمد زبیر، ڈاکٹر صغیر احمد، محمد طاہر، منظور احمد، کفیل واڑہ، رؤف مغل، کمال صدیقی، رفیق راجپوت اور محمد عمران کا 15 فروری کو طلب کر رکھا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ طلب کیے گئے رہنما پیسے جمع کرکے خدمت خلق فاونڈیشن کے اکاؤنٹ میں پیسے جمع کرایا کرتے تھے جنہیں لندن بھجوایا جاتا تھا۔ایف آئی اے کو شبہ ہے کہ یہ 10 رہنما بھتے لے کر اور چائنا کٹنگ کر کے پیسہ اکٹھا کرتے اور خدمت خلق فاؤنڈیشن کے اکاؤنٹس کے ذریعے برطانیہ بھیجتے رہے۔ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم رہنماؤں سے یہ پوچھا جائے گا کہ پیسے کیسے اور کہاں سے اکٹھے کرتے تھے، پیسے کون فراہم کرتا تھا، پیسے لندن بھیجے جاتے تو معاونت کون کرتا تھا اور سب سے بڑھ کر پیسوں کا استعمال کیسے کیا تھا۔ایم کیو ایم کے سربراہ اور خدمت خلق فاؤنڈیشن کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ 2017 میں کراچی میں درج کیا گیا تھا،مگر بعد میں اسے ایف آئی اے انسداد دہشت گردی ونگ اسلام آباد میں منتقل کردیا گیا تھا۔خیال رہے کہ گزشتہ دنوں اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت نے عمران فاروق قتل کیس میں بانی متحدہ قومی موومنٹ کو برطانوی اخبار میں شائع نوٹس کے ذریعے 30 روز میں عدالت میں پیش ہونے کا کہا تھا۔

انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مین
loading...