24  فروری‬‮  2018
تازہ ترین

’’ میں نے خاتون اہلکار کا سوتے میں بوسہ لیا اور پھر۔ ۔ ۔‘‘ پاکستان کی تاریخ کا انوکھا ترین مقدمہ ، تفصیلات آپ کو بھی ہنسنے پر مجبور کر دیں گی

’’ میں نے خاتون اہلکار کا سوتے میں بوسہ لیا اور پھر۔ ۔ ۔‘‘ پاکستان کی تاریخ کا انوکھا ترین مقدمہ ، تفصیلات آپ کو بھی ہنسنے پر مجبور کر دیں گی
اسلام آباد (ویب ڈیسک) ائیرپورٹ سکیورٹی فورس کی خاتون اہلکار کو بوسہ لینے پر 4 سال سے معطلی کا سامنا کرنے والے افسر کے ساتھ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی شگفتہ بیانی پر کمرہ عدالت قہقہوں سے گونج اٹھا، فاضل جج نے اہلکار کی جانب سے آئندہ سماعت پر پوری کہانی سنانے کی یقین د ہانی پر سماعت ملتوی کردی۔

 

 

 

 

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے گزشتہ روز اے ایس ایف کی خاتون اہلکار کا بوسہ لینے پر چار سال پہلے معطل ہونے والے اے ایس ایف کے افسر کی جانب سے دوران معطلی بطور سزا تنخواہ اور الائنس نہ ملنے کی درخواست پر سماعت کی، معطل افسر طارق لودھی اپنے وکیل محمد بشیر کے ہمراہ پیش ہوا، عدالت نے استفسار کیا کہ اے ایس ایف نے آپکو کیوں نکالا؟ جس پر طارق لودھی نے قصہ بیان کردیا، جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا اصل معاملہ بتائیں ہوا کیا تھا یہ تو کہانی سنارہے ہیں۔طارق لودھی نے کہا چار سال قبل سوتے ہوئے اپنی ماتحت اے ایس آئی کا بوسہ لیا تھا، عدالت نے کہا آپ نے ماتحت کا بوسہ لیا ؟ اہلکار نے تائید کرتے ہوئے کہا جی غلطی سے، ملازم نے سپریم کورٹ کے کسی آرڈر کا حوالہ دینے کی کوشش کی تو عدالت نے استفسار کیا، سپریم کورٹ نے کیا کہا کہ بوسہ ٹھیک لیا ہے؟ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی مجھے میرے الاﺅنس دلوائے جائیں، میری بات نہیں سنی جارہی۔

انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مین
loading...