134

وفاقی حکومت کا مالاکنڈ ٹنل منصوبے میں توسیع کرنے کا فیصلہ

وفاقی حکومت کا مالاکنڈ ٹنل منصوبے میں توسیع کرنے کا فیصلہ
برفباری، ٹریفک جام سے شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کے باعث ٹنل کی تعمیر کیلئے کورین بینک کیساتھ قرضے کے حصول کا معاہدہ ہواتھا
توسیع سے منصوبہ کی لاگت میں8کروڑ50 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوگا،این ایچ اے مزید فنانسنگ کے لیے کورین بینک سے رابطہ کرے گا
اسلام آباد(سی پی پی) وفاقی حکومت نے مالاکنڈ ٹنل منصوبے میں توسیع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کی لاگت میں 8کروڑ 50لاکھ ڈالر اضافہ ہوگا۔نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے لاگت میں اضافے کے باعث مزید فنانسنگ کے لیے کورین بینک سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق مالاکنڈ ٹنل کی لمبائی 9.7کلومیٹر ہے اس شاہراہ پر برفباری اور ٹریفک جام کے مسائل کے باعث شہریوں کو آمدورفت میں شدید مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔اس ٹنل کی تعمیر کے لیے کورین بینک کے ساتھ قرضے کے حصول کا معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت کورین بینک نے سنگل ٹیوب ٹنل بنانے کے لیے 7کروڑ 80لاکھ ڈالر قرضہ فراہم کرنا تھا اور مالاکنڈ ٹنل کے اس منصوبے کی تکمیل ساڑھے 3سال کے عرصے میں کی جانی تھی تاہم اس منصوبے کا تفصیلی ڈیزائن جنوری 2017میں کوریا کی انجینئرنگ کمپنی کی جانب سے مکمل کر کے نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے)کو جمع کرایا گیا جس میں ٹریفک کے پیش نظر تجویز دے دی گئی ہے کہ 2 ٹیوب پر مشتمل ٹنل تعمیر کی جائے۔2 ٹیوب پر مشتمل نظرثانی شدہ پی سی ون کے مطابق اس منصوبے کی لاگت میں اضافہ ہو گیا ہے، اضافی ٹنل کے باعث مالاکنڈ منصوبہ ٹنل کی لاگت 7کروڑ 80لاکھ ڈالر سے بڑھ کر 16 کروڑ 30لاکھ ڈالر تک پہنچ چکی ہے اور اس منصوبے کی لاگت میں تقریبا 8کروڑ 50 لاکھ ڈالراضافہ ہوگیا ہے جس کے باعث منصوبے کے لیے مزید 8کروڑ 50لاکھ ڈالر فنڈز کی ضرورت ہے جس پر وزارت مواصلات کی جانب سے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ مالاکنڈ ٹنل منصوبے کی تکمیل کے لیے کورین حکومت کو اضافی فنڈنگ کے لیے درخواست کی جائے تاکہ اس اہم منصوبے کی تکمیل کی جاسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں