148

پاکستانیوں کیلئے انتہائی بری خبر، جولائی تا مارچ میں کتنے کھرب روپے خسارہ برداشت کرنا پڑا ،ہوش اڑا دینے والا انکشاف

ملکی و غیرملکی قرضوں اور ان پر عائد سود کی واپسی کی مد میں 11 کھرب 72ارب 84سے زائد اخراجات کیے گئے،رپورٹ
اسلام آباد(سی پی پی) رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ (جولائی تا مارچ)کے دوران ملک کامالیاتی خسارہ 4.3فیصد اضافہ کے ساتھ 14کھرب 80 ارب 92کروڑ 90 لاکھ روپے ہوگیا ہے جبکہ ملکی جی ڈی پی کا حجم بڑھ کر 34396 ارب روپے ہوگیا ہے۔میڈیا کو دستیاب وزارت خزانہ کی 9ماہی فسکل آپریشن رپورٹ کے مطابق جولائی سے مارچ تک 6 کھرب23 ارب 83کروڑ 90لاکھ روپے کے دفاعی اخراجات کیے گئے۔ دستاویز میں بتایا گیا کہ رواں مالی سال کے پہلے 9ماہ کے دوران پاکستان نے وفاقی و صوبائی سطح پر مجموعی طور پر 30کھرب 76 ارب 22کروڑ70 لاکھ روپے کی ریونیو وصولیاں کیں جو ملکی جی ڈی پی کا10.6فیصد ہے جبکہ 51کھرب 30 ارب 91 کروڑروپے کے اخراجات کیے ہیں جو جی ڈی پی کا 14.9 فیصدہیں۔ملکی و غیرملکی قرضوں اور ان پر عائد سود کی واپسی کی مد میں مجموعی طور پر 11 کھرب 72ارب 84کروڑ روپے کے اخراجات کیے گئے ہیں جبکہ رواں مالی سال کے دوران جی ڈی پی کا مجموعی حجم 34396 ارب روپے رہا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں مالی سال کی 30 کھرب 76 ارب 22کروڑ70 لاکھ روپے کی مجموعی وصولیوں میں سے وفاقی اور صوبائی سطح پر ٹیکس وصولیاں 27کھرب96ارب 25 کروڑ60لاکھ روپے رہیں جن میں ایف بی آر کی طرف سے 26 کھرب27ارب64کروڑ80 لاکھ روپے کا ٹیکس جمع کیاگیا، ان میں سے ڈائریکٹ ٹیکس(انکم ٹیکس)کی مد میں مجموعی طور پر10کھرب9 ارب 2کروڑ روپے کی وصولیاں ہوئیں جبکہ ان ڈائریکٹ ٹیکسوں میں سے سیلز ٹیکس کی مد میں مجموعی طور پر 10کھرب 49ارب 62کروڑ40 لاکھ روپے،فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں1 کھرب 39ارب 15کروڑ20لاکھ روپے اور کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں 4 کھرب29ارب 58کروڑ20 لاکھ روپے جمع کیے گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں