44

وہ سرکاری افسر جو پچاس لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ وصول کر رہا ہے، دھماکے دار انکشاف

وہ سرکاری افسر جو پچاس لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ وصول کر رہا ہے، دھماکے دار انکشاف پاکستان کا بال بال قرضے میں جکڑا ہے مگر حکمرانوں کے علاوہ افسران کی عیاشیاں ایسی ہیں کہ ہر کوئی سن کر شرما جائے۔ پاکستان سٹیٹ آئل (پی ایس او) کے ایم ڈی کی تنخواہ 50 لاکھ روپے جبکہ ڈپٹی ایم ڈی 23 لاکھ روپے وصول کرتے ہیں جبکہ ملک بھر میں تقریباً 15 سے زائد ایسے افسران ہیں جن کے 15 لاکھ روپے یا اسے زائد

ماہانہ تنخواہ لینے کا انکشاف ہوا ہے۔نجی ٹی وی 92 نیوز کے مطابق پاکستان میں پبلک سیکٹر انٹرپرائزز ایسی کمپنیاں ہیں جن کی گزشتہ 10 سالوں کے دوران کارکردگی انتہائی خراب رہی اور ان کمپنیوں یا کارپوریشنز کا سالانہ نقصان تقریباً 400 سے 500 ارب روپے تک کا ہے مگر ان کی کارکردگی بہتر نہیں ہوئی۔ اس سیکٹر میں کچھ تجربے ہونا شروع ہوئے اور یہ منطق سامنے آئی کہ ان کمپنیوں کے سربراہان کی تنخواہیں بھی پرائیویٹ مارکیٹ اور بین الاقوامی سٹینڈرڈ کے مطابق ہونی چاہئیں اور انہیں بھارتی مراعات بھی ملنی چاہئیں تاکہ اچھے لوگوں کی خدمات حاصل کر کے ان کمپنیوں کا خسارہ ختم کیا جا سکے اور انہیں منافع بخ بنایا جا سکے لیکن جب بھرتیوں کا عمل شروع ہوا تو روپے پیسوں کی بارش کر دی گئی۔مختلف کمپنیوں کے سربراہان کا تقرر شروع ہوا تو پبلک سیکٹر کمپنیوں کے وہ سربراہان جنہیں دو لاکھ سے پانچ لاکھ روپے تک تنخواہ ملتی تھی اور مراعات بھی شامل تھیں، کو بڑھا کر 10 لاکھ سے 50 لاکھ روپے تک پہنچا دیا گیا مگر اس کے باوجود کمپنیوں کی کارکردگی بہتر نہ ہو سکی۔ پھر یہ انکشاف بھی سامنے آیا کہ پی ایس او کے ایم ڈی 37 لاکھ روپے بنیادی تنخواہ لے رہے ہیں جبکہ اس میں دیگر مراعات شامل ہونے کے بعد ماہانہ پیکیج 50 لاکھ روپے تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ معاملہ سپریم کورٹ کی نظر میں پہنچا جس پر چیف جسٹس آف پاکستان نے نیب کو اس معاملے کی تحقیقات کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پتہ چلایا جائے کہ ایم ڈی پی ایس او شیخ عمران الحق کتنی تنخواہ لے رہے ہیں اور اگر وہ واقعی 50 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ لے رے ہیں تو اس کا جواز کیا ہے، ان کی تقرری کس بنیاد پر کی گئی، کیا یہ سیاسی تقرری تھی اور ان کے تقرر کیلئے قانونی طریقہ کار استعمال کیا گیا تھا یا نہیں جبکہ اس کے علاوہ ملک بھر کے تمام سرکاری اداروں میں کام کرنے والے ایسے افسران جن کی ماہانہ تنخواہ پندرہ لاکھ روپے یا زیادہ ہے اس کی بھی تحقیقات ہونی چاہئیں اور رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی جائے۔سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد نیب نے تحقیقات کا عمل شروع کیا تو نیب کے پراسیکیوٹر جنرل کی جانب سے تمام ڈائریکٹر جنرلز کو یہ خط لکھا گیا کہ اس معاملے کی تحقیقات کر کے چھ ہفتوں میں رپورٹ نیب ہیڈ کوارٹر میں دو ستمبر تک جمع کروائی جائے۔ نیب نے ڈائریکٹر جنرلز سے تمام معلومات جمع کر لی ہیں جن کے مطابق اس وقت پاکستان میں مختلف کمپنیوں اور کارپوریشنز اور سرکاری اداروں کے 15 سے زیادہ ایسے افسران ہیں جن کی تنخواہ 15 لاکھ روپے ماہانہ سے زیادہ ہے۔ تحقیقات کے دوران بے شمار افسران ایسے بھی سامنے آئے جن کی تنخواہ 14 سے 15 لاکھ کے درمیان ہے اور چونکہ ان کی تنخواہ 15لاکھ روپے نہیں ہے اس لئے ان کے نام فہرست میں شامل نہیں کئے گئے۔ پراسیکیوٹر جنرل نیب کو دو ستمبر تک حتمی رپورٹ جمع کرائی جائے گی اور پھر نیب یہ رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں